کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نماز کا بیان
باب
تشہد کے بعد نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر درود شریف بھیجنے کے بیان میں
حدیث نمبر
808
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ هُوَ الَّذِي کَانَ أُرِيَ النِّدَائَ بِالصَّلَاةِ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ لَهُ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ أَمَرَنَا اللَّهُ تَعَالَی أَنَّ نُصَلِّيَ عَلَيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَکَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْکَ قَالَ فَسَکَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَالسَّلَامُ کَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ
یحیی بن یحیی تمیمی، مالک، نعیم بن عبداللہ، محمد بن عبداللہ بن زید انصاری، عبداللہ بن زید، ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سعد بن عباد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں تھے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو اللہ تبارک وتعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کاحکم دیا ہے ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے درود بھیجیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے یہاں تک ہم تمنا کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کا سوال نہ کیا جاتا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّيْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِکْ عَلَی مُحَمَّدٍ وَعَلَی آلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلَی آلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّکَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ) پڑھو اور سلام تم پہلے معلوم کر چکے ہو-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment