کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
مانگنے سے ممانعت کے بیان میں۔
حدیث نمبر
2293
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ يَقُولُا إِيَّاکُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا کَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ فَإِنَّ عُمَرَ کَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ فَيُبَارَکُ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ کَانَ کَالَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، معاویہ بن صالح، ربیعہ بن یزید دمشقی، عبداللہ بن عامریحصبی، حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ احادیث سے بچو سوائے ان احادیث کے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں مروی تھیں- کیونکہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کو اللہ کے بارے میں خوف دیتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے اللہ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فر ماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں خزانچی ہوں جس کو میں طیب نفس یعنی دلی خوشی سے کچھ عطا کروں تو اس میں اسے برکت ہوتی ہے اور جس کو میں اس کے مانگنے پر اور ستانے پر دوں اس کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment