کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
دنیا کی زینت و کشادگی پر غرور کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حدیث نمبر
2325
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ مَا أَخْشَی عَلَيْکُمْ أَيُّهَا النَّاسُ إِلَّا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَکُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَصَمَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ کَيْفَ قُلْتَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْخَيْرَ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ أَوَ خَيْرٌ هُوَ إِنَّ کُلَّ مَا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آکِلَةَ الْخَضِرِ أَکَلَتْ حَتَّی إِذَا امْتَلَأَتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ الشَّمْسَ ثَلَطَتْ أَوْ بَالَتْ ثُمَّ اجْتَرَّتْ فَعَادَتْ فَأَکَلَتْ فَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِحَقِّهِ يُبَارَکْ لَهُ فِيهِ وَمَنْ يَأْخُذْ مَالًا بِغَيْرِ حَقِّهِ فَمَثَلُهُ کَمَثَلِ الَّذِي يَأْکُلُ وَلَا يَشْبَعُ
یحیی بن یحیی، لیث بن سعد، قتیبہ بن سعید، سعید بن ابوسعید مقبری، عیاض بن عبداللہ بن سعد، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اللہ کی قسم میں تم پر اس سے زیادہ کسی چیز کی وجہ سے نہیں ڈرتا جو اللہ تمہارے لیے دنیا کی زینت کی چیز نکالتا ہے ایک صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا بھلائی سے برائی بھی آسکتی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ خاموش رہے- پھر فرمایا تو نے کیسے کہا تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول میں نے عرض کیا کیا بھلائی سے بھی برائی آ سکتی ہے- تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بھلائی کا نتیجہ تو بھلائی ہی ہوتا ہے لیکن موسم بہار میں اگنے والا سبزہ جانوروں کو ہلاک کردیتا ہے- یا ہلاکت کے قریب کردیتا ہے سوائے اس سبزہ کھانے والے جانور کے جو کھائے جب اس کی کوکھیں بھر جائیں تو وہ دھوپ میں چلا جائے اور جگالی یا پیشاب کر لے- پھر جگالی کرے اور اس میں اس کے لیے برکت دی جائے گی اور جو مال ناحق لے گا تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے اس کی جو کھاتا تو ہے لیکن سیر نہیں ہوتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment