کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
بغیر سوال اور خواہش کے لینے کے جواز کے بیان میں
حدیث نمبر
2310
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُعْطِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْعَطَائَ فَيَقُولُ لَهُ عُمَرُ أَعْطِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ وَمَا جَائَکَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَکَ قَالَ سَالِمٌ فَمِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَسْأَلُ أَحَدًا شَيْئًا وَلَا يَرُدُّ شَيْئًا أُعْطِيَهُ
ابوطاہر، ابن وہب، عمرو بن حارث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کچھ مال عطا کیا کرتے تھے- تو عمر نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا اے اللہ کے رسول جو مجھ سے زیادہ فقیر ہو اس کو عطا کیا کریں- تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا اسے لے لو اپنے پاس رکھو یا صدقہ کرو اور تیرے پاس جو مال اس طرح آ ئے کہ تو نہ خوا ہش کرنے والا ہو اور نہ مانگنے والا تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ آ ئے تو اپنے دل کو اس کی طرف ہی نہ لگا ؤ- حضرت سالم کہتے ہیں اسی وجہ سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی سے کچھ نہ مانگتے تھے اور اگر کوئی آپ کو کچھ دے دیتا تو اسے لوٹاتے بھی نہ تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment