کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
زکوۃ کا بیان
باب
مانگنا کس کے لیے حلال ہے کے بیان میں
حدیث نمبر
2308
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ حَدَّثَنِي کِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيُّ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ أَقِمْ حَتَّی تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَکَ بِهَا قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِکُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّی يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّی يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْکُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا
یحیی بن یحیی، قتیبہ بن سعید، حماد بن زید، یحیی، حماد بن زید، ہارون بن ریاب، کنا نہ بن نعیم عدوی، قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے (کسی امر کے لیے) چندہ جمع کرنے کا بار اپنے اوپر ڈال لیا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں پوچھنے کے لیے حاضر ہوا- تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ٹھہر جاؤ کہ ہمارے پاس صدقہ کا مال آ جائے تو ہم تم کو دینے کا حکم دے دیں گے- پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے قبیصہ! تین آد میوں کے علاوہ کسی کے لیے مانگنا جائز نہیں- ایک وہ آدمی جس نے اپنے اوپر چندہ کا بوجھ ڈالا ہو تو اس کے لیے اتنی رقم پوری کرنے تک مانگنا جائز ہے پھر وہ رک جائے- دوسرا وہ آدمی جس کے مال کو کسی آفت نے ختم کردیا ہو تو اس کے لیے اپنے گزر بسر تک یا گزر اوقات کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے تیسرا وہ آدمی ہے جس کے تین دن فاقہ میں گزر جائیں اور اس کی قوم میں سے تین کامل العقل آدمی اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں آدمی کو فاقہ پہنچا ہے تو اس کے لیے گزر بسر کے قابل ہونے تک مانگنا جائز ہے اے قبیصہ! ان تین کے علاوہ مانگنا حرام ہے اور مانگ کر کھانے والا حرام کھاتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment