Sunday, 12 June 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:1021


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نماز  کا بیان
باب
 نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استحباب اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے، نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں
حدیث نمبر
1021
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ قَالَ فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ قَالَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَائُ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ ثُمَّ رُکِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْکَلْبُ لَا يُمْنَعُ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَدِينَةِ
ابوبکر بن شیبہ، زھیربن حرب، وکیع، ، زہیر، سفیان، عون بن جحیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقام ابطح میں سرخ چمڑے کے ایک قبہ میں تشریف فرماتھے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے وضو کا پانی لے کر نکلے پس بعض لوگوں کو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچا ہو پانی پہنچا اور بعض نے اس کو چھڑک لیا فرماتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ جبہ پہنے ہوئے نکلے گویا کہ میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفید ی دیکھ رہا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا اور بلال نے اذان دی او رمیں نے ان کے منہ کی طرف دیکھنا شروع کیا وہ اپنے چہرہ کو دائیں بائیں پھیر رہے تھے اور حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ) کہہ رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک برچھا گاڑا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے تشریف لے گئے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے سے کتے اور گدھے گزرتے رہے لیکن ان کو نہ روکا گیا پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعتیں ھی ادا کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس آگئے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment