کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
فرائض کا بیان
باب
کلالہ کی میراث کے بیان میں
حدیث نمبر
4055
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ يَوْمَ جُمُعَةٍ فَذَکَرَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَکَرَ أَبَا بَکْرٍ ثُمَّ قَالَ إِنِّي لَا أَدَعُ بَعْدِي شَيْئًا أَهَمَّ عِنْدِي مِنْ الْکَلَالَةِ مَا رَاجَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْئٍ مَا رَاجَعْتُهُ فِي الْکَلَالَةِ وَمَا أَغْلَظَ لِي فِي شَيْئٍ مَا أَغْلَظَ لِي فِيهِ حَتَّی طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ يَا عُمَرُ أَلَا تَکْفِيکَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَائِ وَإِنِّي إِنْ أَعِشْ أَقْضِ فِيهَا بِقَضِيَّةٍ يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
محمد بن ابی بکر مقدمی، محمد بن مثنی، یحیی بن سعید، ہشام، قتادہ، سالم بن ابی جعد، حضرت معدان بن ابوطلحہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرمایا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر کیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر فرمایا، پھر فرمایا میں اپنے بعد کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا جو میرے نزدیک کلالہ سے زیادہ اہم ہو اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی مسئلہ کہ بارے میں اتنا رجوع نہیں کیا جو میں نے کلالہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رجوع کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیےجیسی سختی اس میں کی کسی مسئلہ میں نہیں فرمائی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سنیہ میں اپنی ا نگلی چبھو کر فرمایا اے عمر! کیا تیرے لیے سورۃ النساء کی آخری آیت صیف کافی نہیں؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر میں زندہ اس آیت کے فیصلہ کے مطابق ایسا فیصلہ دوں گا کہ جو قرآن پڑھے یا نہ پڑھے وہ بھی اسی کہ مطابق ہی فیصلہ کرے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment