کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ہبہ کا بیان
باب
ہبہ میں بعض اولاد کو زیادہ دینے کی کراہت کے بیان میں
حدیث نمبر
4087
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ أَنَّ أُمَّهُ بِنْتَ رَوَاحَةَ سَأَلَتْ أَبَاهُ بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ مِنْ مَالِهِ لِابْنِهَا فَالْتَوَی بِهَا سَنَةً ثُمَّ بَدَا لَهُ فَقَالَتْ لَا أَرْضَی حَتَّی تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَا وَهَبْتَ لِابْنِي فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّ هَذَا بِنْتَ رَوَاحَةَ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَکَ عَلَی الَّذِي وَهَبْتُ لِابْنِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بَشِيرُ أَلَکَ وَلَدٌ سِوَی هَذَا قَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَکُلَّهُمْ وَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ هَذَا قَالَ لَا قَالَ فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَی جَوْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابی حیان، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اس کی ماں بنت رواحہ نے اس کے باپ سے اس کے مال میں سے کچھ مال ہبہ کرنے کا سو ال کیا- انہوں نے ایک سال تک التواء میں رکھا پھر اس کا ارادہ ہوگیا اس ماں نے کہا میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گی جب تک تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کومیرے بیٹے کے ہبہ پر گواہ نہ بنالے- تو میرے والد نے میرا ہاتھ پکڑا اور ان دنوں میں لڑکا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس کی ماں بنت رواحہ پسند کرتی ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بیٹے کے ہبہ پر گواہ بناؤں- تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تیری اولاد ہے؟ انہوں نے کہا : انہوں نے کہا جی ہاں! آپ نے فرمایا کیا تو نے اسی طرح سب کو ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو مجھے گواہ مت بنا کیونکہ میں ظلم پر گواہی نہیں دیتا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment