کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
فرائض کا بیان
باب
جو مال چھو ڑ جائے وہ اس کے ورثاء کہ لئے ہو نے کے بیان میں
حدیث نمبر
4062
زہیر بن حرب، ابوصفوان اموی، یونس ایلی، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمان، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہ پاس کسی آدمی کی میت لائی جاتی اور اس پر قرض ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوچھتے کیا اس نے اپنے قرض کے لیے مال چھوڑا ہے جو قرضہ کو کافی ہو پس اگر بات کی جاتی کہ اس نے قرض کو پورا کرنے کہ لیے ترکہ چھوڑا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر جنازہ پڑھاتے ورنہ فرماتے اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اللہ عزوجل نے قتوحات کے دروازے کھول دئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں مومنوں کی جانوں سے زیادہ عزیز ہوں جو فوت ہوا اور اس پر قرض ہو تو اس کا ادا کرنا مجھ پر ہے اور جس نے مال چھوڑا تو وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment