Saturday, 9 July 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:1853

کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
 خوف کی نماز کے بیان میں
حدیث نمبر
1853
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا إِذَا أَتَيْنَا عَلَی شَجَرَةٍ ظَلِيلَةٍ تَرَکْنَاهَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَسَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلَّقٌ بِشَجَرَةٍ فَأَخَذَ سَيْفَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرَطَهُ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَخَافُنِي قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ يَمْنَعُکَ مِنِّي قَالَ اللَّهُ يَمْنَعُنِي مِنْکَ قَالَ فَتَهَدَّدَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَغْمَدَ السَّيْفَ وَعَلَّقَهُ قَالَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّی بِطَائِفَةٍ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّی بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَی رَکْعَتَيْنِ قَالَ فَکَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان بن یزید، یحیی بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذات الرقاع پہنچ گئے تو جب ہم ایک سایہ دار درخت پر پہنچے تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہاں چھوڑ دیا راوی نے کہا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار درخت کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی تو اس آدمی نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلوار پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کی اور کہنے لگا کہ کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں اس آدمی نے کہا کہ تمہیں کون مجھ سے بچائے گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام نے اس آدمی کو ڈرایا دھمکایا تو اس نے تلوار میان میں ڈال کر لٹک دی نماز کے لئے اذان دی گئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھائی وہ جماعت پیچھے چلی گئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری جماعت کو دو رکعتیں پڑھائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار رکعتیں ہوگئیں اور جماعت کی دو رکعتیں ہوئیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment