مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
خوف کی نماز کے بیان میں
حدیث نمبر
1852
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّذِينَ مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ وَجَائَتْ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَی فَصَلَّی بِهِمْ الرَّکْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ
یحیی بن یحیی، مالک، یزید بن رومان، حضرت صالح بن خوات سے روایت کرتے ہیں کہ جس نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی تھی کہ جماعت نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور ایک جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑی رہی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے پھر وہ ٹھہرے رہے اور انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر وہ دشمن کے مقابلہ میں چلے گئے اور دوسری جماعت آئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جماعت کو وہ رکعت جو باقی رہ گئی تھی پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے رہے اور اس جماعت والوں نے اپنی رکعت پوری کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ سلام پھیرا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment