Saturday, 1 October 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:811,TotalNo:3209


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
 مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر
3209
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَی مَکَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْکَ قَوْلًا قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَکَلَّمَ بِهِ أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ مَکَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَسْفِکَ بِهَا دَمًا وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَکُمْ وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ کَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ وَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَکَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِکَ مِنْکَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ
 قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، ابی شریح، ، عمرو بن سعید، حضرت ابوشریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمرو بن سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا جس وقت کہ وہ مکہ کی طرف اپنی فوج بھیج رہے تھے اے امیر! آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے سامنے وہ حدیث بیان کروں جسے یوم فتح کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا اور میری آنکھوں نے دیکھا جس وقت کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرما رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی حمدوثنا بیان فرمائی پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ نے حرم بنایا اور لوگوں نے اسے حرم نہیں بنایا تو ایسے آدمی کے لئے حلال نہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو یہ کہ وہ مکہ میں خون بہائے اور نہ ہی وہ یہاں کے درخت کاٹے تو اگر کوئی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگ کی وجہ سے حرم میں قتال جائز سمجھتا ہو تو تم اسے کہہ دو کہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دی تھی اور تمہارے لئے اجازت نہیں اور مجھے بھی صرف ایک دن کے کچھ وقت کے لئے اجازت ملی تھی اور آج پھر مکہ کی حرمت پہلے کی طرح لوٹ آئی ہے جس طرح کل تھی اور جو اس وقت یہاں موجود ہے وہ غائبین تک یہ بات پہنچا دے حضرت ابوشریح سے کہا گیا کہ عمرو نے تجھے کیا کہا تھا اس نے کہا کہ اے ابوشریح میں اس بارے میں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں کہ حرم کسی نافرمان کو پناہ نہیں دیتا اور نہ ہی قتل اور چوری کر کے نکلنے والے کو بھاگنے دیتا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment