کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر
3210
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ الْوَلِيدِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَکَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ کَانَ قَبْلِي وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلَا يُخْتَلَی شَوْکُهَا وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُفْدَی وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ فَقَالَ اکْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اکْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ قَالَ الْوَلِيدُ فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ اکْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
زہیر بن حرب، عبیداللہ بن سعید، ولید، زہیر، ولید بن مسلم، یحیی بن ابی کثیر، ابوسلمہ، ابن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر مکہ کو فتح فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے ہاتھ والوں کو روکا تھا اور اللہ نے مکہ پر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مومنوں کو غلبہ عطا فرمایا اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے بھی مکہ حلال نہیں تھا اور میرے لئے بھی ایک دن کے کچھ وقت کے لئے حلال ہوا تھا اور اب میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہوگا اس لئے یہاں سے شکار بھگایا نہ جائے اور نہ ہی یہاں کے کانٹے کاٹے جائیں اور نہ ہی یہاں کی گری ہوئی چیز کسی کے لئے حلال ہے سوائے اعلان کرنے والے کے یعنی گمشدہ چیز کو اٹھا کر اگر اس کا اعلان کرے اسے اس تک پہنچائے تو اس کے لئے حلال ہے اور جس آدمی کو کوئی قتل کردے تو ا س کے لواحقین کے لئے دوچیز میں سے ایک کا اختیار ہے یا اس کی دیت لے لے یا اسے قصاصا قتل کر دے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول گھاس کو مستثنی فرما دیں کیونکہ ہم اسے اپنی قبروں اور گھروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گاس کو مستثنی فرما دیا (یعنی حرم کی حدود میں گاس کاٹنے کی اجازت ہے) تو ابوشاہ کھڑا ہوا جو کہ یمن کا ایک آدمی تھا اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول مجھے یہ لکھوا دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابوشاہ کو لکھ دو ولید کہتے ہیں کہ میں نے اوزاعی سے کہا کہ ابوشاہ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اے اللہ کے رسول مجھے لکھوا دیں انہوں نے کہا کہ وہ خطبہ کہ جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment