مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
سورة فاتحہ اور سورة بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورة بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حدیث نمبر
1783
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنْ السَّمَائِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَکٌ فَقَالَ هَذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَةُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ
حسن بن ربیع، احمد بن جواس حنفی، ابوالاحوص، عمار بن رزیق، عبداللہ بن عیسی، سعد بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ دروازہ آسمان کا ہے جسے صرف آج کے دن کھولا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا پھر اس سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیے گئے جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے ایک سورة الفاتحہ اور دوسری سورة البقرہ کی آخری آیات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے مطابق دیا جائے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment