Saturday, 2 July 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:1696


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز  اور  قصر کے  احکام کا بیان
باب
 نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حدیث نمبر
1696
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ نِمْتُ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا تِلْکَ اللَّيْلَةَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّی فِي تِلْکَ اللَّيْلَةِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَکْعَةً ثُمَّ نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَفَخَ وَکَانَ إِذَا نَامَ نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ فَصَلَّی وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ عَمْرٌو فَحَدَّثْتُ بِهِ بُکَيْرَ بْنَ الْأَشَجِّ فَقَالَ حَدَّثَنِي کُرَيْبٌ بِذَلِکَ
ہارون بن سعید، ایلی، ابن وہب، عمرو، عبد ربہ بن سعید، ، مخرمہ بن سلیمان، کریب، ابن عباس فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں میں سویا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رات حضرت میمونہ کے پاس تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کان سے پکڑا اور اپنی دائیں طرف کرلیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات میں تیرہ رکعتیں نماز پڑھی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خراٹے لینے لگے اور جب بھی سوتے تو خراٹے لیتے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور نماز پڑھائی اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو نہیں فرمایا عمر نے کہا کہ میں نے اس حدیث کو بکیر بن اشج سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ کریب نے ان سے اسی طرح بیان کیا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment