Saturday, 23 April 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:284


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
 کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغٰیر قطعی دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں
حدیث نمبر
284
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَی رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ سَعْدٌ فَتَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَکَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مُسْلِمًا إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُکَبَّ فِي النَّارِ عَلَی وَجْهِهِ
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، عامر بن سعد ابن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال عطا فرمایا اور حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں بیٹھے ہوئے تھے حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان میں سے کچھ ایسے لوگوں کو مال عطا نہیں فرمایا جو میرے نزدیک زیادہ مستحق تھے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں کو عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلم؟ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں تھوڑی دیر خاموش رہا پھر مجھے وہی خیال غالب آنے لگا جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کو کیوں عطا نہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن جانتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسلم؟ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں پھر کچھ دیر خاموش رہا پھر مجھ پر وہی خیال غالب آ نے لگا جس کے بارے میں میں آگاہ تھا میں نے پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کو مال عطانہیں فرمایا اللہ کی قسم میں اس کو مومن ہونے کو جانتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یا مسلم؟ اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں ایک آدمی کو دے دیتا ہوں حالانکہ دوسرا آدمی مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے اور میں صرف اس ڈر سے اسے دیتا ہوں کہ کہیں وہ کفر کر کے منہ کے بل جہنم میں نہ گرا دیا جائے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment