کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
کمزور ایمان والے کی تالیف قلب کرنے اور بغٰیر قطعی دلیل کے کسی کو مومن نہ کہنے کے بیان میں
حدیث نمبر
285
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ أَعْطَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ وَزَادَ فَقُمْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَکَ عَنْ فُلَانٍ
حسن بن علی حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد، صالح، ابن شہاب، عامر بن سعد، سعد سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو عطا فرمایا اور میں انہیں میں بیٹھا ہوا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح فرمایا لیکن اس سند کی روایت میں یہ الفا ظ زائد ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھڑا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاموشی سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں آدمی کو کیوں نہیں عطا فرمایا؟
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment