کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہو گیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہو گیا جس کا مال مارا جا رہاتھا وہ تو شہید ہے۔
حدیث نمبر
266
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا کَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَبَيْنَ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا کَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ فَرَکِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ خَالِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ
حسن بن علی حلوانی، اسحق بن منصور، محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، سلیمان، ثابت سے روایت ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا دونوں لڑنے کے لئے تیار ہو گئے تو حضرت خالد بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سوار ہو کر آئے اور انہیں سمجھایا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اپنا مال بچاتے ہوئے قتل ہو جائے وہ شہید ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment