کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی کسی کا ناحق مال مارے تو اس آدمی کا خون جس کا مال مارا جا رہا ہے اس کے حق میں معاف ہے اور اگر وہ مال مارتے ہوئے قتل ہو گیا تو دوزخ میں جائے گا اور اگر وہ قتل ہو گیا جس کا مال مارا جا رہاتھا وہ تو شہید ہے۔
حدیث نمبر
265
حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ جَائَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي قَالَ فَلَا تُعْطِهِ مَالَکَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي قَالَ قَاتِلْهُ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي قَالَ فَأَنْتَ شَهِيدٌ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ قَالَ هُوَ فِي النَّارِ
ابوکریب، محمد بن علاء، ابن مخلد، محمد بن جعفر، علاء بن عبدالرحمن، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کرنے لگا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی میرا مال لینے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو نہ دے، اس نے عرض کیا اگر وہ مجھ سے لڑے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو بھی اس سے لڑ، اس نے عرض کیا اگر وہ مجھے مار ڈالے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو شہید ہوگا، اس نے عرض کیا اگر میں اس کو مار ڈالوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment