Saturday, 23 April 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:264


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
ایمان کا بیان
باب
 اس بات کے بیان میں کہ جو آدمی جھوٹی قسم کھا کر کسی کا حق مارے اسکی سزا دوزخ ہے۔
حدیث نمبر
264
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ فَقَالَ أَحَدُهُمَا إِنَّ هَذَا انْتَزَی عَلَی أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْکِنْدِيُّ وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ قَالَ بَيِّنَتُکَ قَالَ لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ قَالَ يَمِينُهُ قَالَ إِذَنْ يَذْهَبُ بِهَا قَالَ لَيْسَ لَکَ إِلَّا ذَاکَ قَالَ فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ إِسْحَقُ فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ
زہیر بن حرب، اسحق بن ابراہیم، ابی ولید، زہیر، ہشام بن عبدالملک، ابوعوانہ، عبدالملک بن عمیر، علقمہ بن وائل ابن حجر کہتے ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا کہ اتنے میں دو آدمی ایک زمین کے سلسلہ میں جھگڑتے ہوئے  آئے ان میں سے ایک نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی نے زمانہ جاہلیت میں میری زمین چھین لی وہ امرؤالقیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف جس سے جھگڑا ہوا وہ ربیعہ بن عبد ان تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرے پاس اس بات کے گواہ ہیں؟ اس نے کہا میرے پاس گواہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر مدعا علیہ پر قسم ہے، اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ تو میرا مال دبالے گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کے بغیر تو کوئی چارہ نہیں پھر جب وہ قسم اٹھانے کے لئے کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو آدمی ظلمًا کسی کی زمین دبائے گا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر نا راض ہوگا اسحق کی روایت میں ریبعہ بن عیدان ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment