Saturday, 20 August 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2010


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2010
حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ ثُمَّ يَرْکَعُ وَزَادَ فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي وَإِلَی الْأُخْرَی هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي
سعید بن یحیی اموی، ابن جریج اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طویل قیام کیا پھر رکوع کیا میں نے دیکھا کہ بعض عورتیں مجھ سے زیادہ عمر والی اور دوسری مجھ سے زیادہ بیمار بھی ہیں (مجھے بھی نماز میں ہمت ان کی وجہ سے ہوئی)-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2009


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2009
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّهَا قَالَتْ فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَتْ تَعْنِي يَوْمَ کَسَفَتْ الشَّمْسُ فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّی أُدْرِکَ بِرِدَائِهِ فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَی لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَکَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ
یحیی بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، ابن جریج، منصور بن عبدالرحمن، صفیہ بنت شیبہ، حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورج گرہن کے دن گھبراہٹ سے اپنے اوپر کسی کی چادر اوڑھ لی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر لا کر دے دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو لمبا قیام کیا اگر کوئی انسان آتا تو وہ یہ جان نہ سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا جیسے طویل قیام کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رکوع بیان کیا گیا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2008


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2008
أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ لَا تَقُلْ کَسَفَتْ الشَّمْسُ وَلَکِنْ قُلْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ
یحیی بن یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، عروة، سے روایت ہے کہ کسوف شمس نہ کہو بلکہ خسوف شمس کہو-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2007


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2007
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ وَإِذَا هِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، فاطمہ، اسماء اوپر والی حدیث کی سند ثانی ذکر کی ہے الفاظ کا تغیر وتبدل ہے لیکن مفہوم و معنی وہی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2006


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2006
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَائَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلْتُ عَلَی عَائِشَةَ وَهِيَ تُصَلِّي فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ يُصَلُّونَ فَأَشَارَتْ بِرَأْسِهَا إِلَی السَّمَائِ فَقُلْتُ آيَةٌ قَالَتْ نَعَمْ فَأَطَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِيَامَ جِدًّا حَتَّی تَجَلَّانِي الْغَشْيُ فَأَخَذْتُ قِرْبَةً مِنْ مَائٍ إِلَی جَنْبِي فَجَعَلْتُ أَصُبُّ عَلَی رَأْسِي أَوْ عَلَی وَجْهِي مِنْ الْمَائِ قَالَتْ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ مَا مِنْ شَيْئٍ لَمْ أَکُنْ رَأَيْتُهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي مَقَامِي هَذَا حَتَّی الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَإِنَّهُ قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّکُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا أَوْ مِثْلَ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيُؤْتَی أَحَدُکُمْ فَيُقَالُ مَا عِلْمُکَ بِهَذَا الرَّجُلِ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ أَوْ الْمُوقِنُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ هُوَ مُحَمَّدٌ هُوَ رَسُولُ اللَّهِ جَائَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَی فَأَجَبْنَا وَأَطَعْنَا ثَلَاثَ مِرَارٍ فَيُقَالُ لَهُ نَمْ قَدْ کُنَّا نَعْلَمُ إِنَّکَ لَتُؤْمِنُ بِهِ فَنَمْ صَالِحًا وَأَمَّا الْمُنَافِقُ أَوْ الْمُرْتَابُ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَتْ أَسْمَائُ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ
محمد بن علاء ہمدانی، ابن نمیر، ہشام، فاطمہ، حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہء سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا، میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو وہ نماز پڑھ رہی تھیں تو میں نے کہا کہ لوگوں کا کیا حال ہے کہ نماز پڑھ رہے ہیں؟ تو سیدہ نے اپنے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا میں نے کہا کیا ایک نئی نشانی ہے انہوں نے فرمایا ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کو خوب لمبا کیا یہاں تک کہ مجھے غش آنے لگا تو میں نے اپنے برابر سے پانی مشک لے کر اپنے سر اور چہرے پر پانی ڈالنا شروع کردیا، فرماتی ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہو چکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا کوئی چیز ایسی نہیں جس کو میں نے پہلے نہ دیکھا تھا مگر میں نے اس کو اپنی اسی جگہ سے کھڑے دیکھ لیا یہاں تک کہ جنت دوزخ، اور میری طرف وحی کی گئی تم اپنی قبروں میں جانچے جاؤ گے فتنہ دجال کی طرح، اسماء کہتی ہیں کہ تم میں سے کسی کو کہا جائے گا کہ اس آدمی کے بارے میں تیرا کیا علم ہے تو مومن یا یقین والا کہے گا کہ وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، ہمارے پاس کھلے معجزات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے قبول کیا اور اطاعت کی، تین بار وہ یہی کہے گا تو اس سے کہا جائے گا سو جا تحقیق ہم جانتے ہیں کہ تو ایماندار ہے پس اچھا بھلا سوتا رہ، بہرحال منافق یا شک میں پڑنے والا  کہے گا میں نہیں جانتا، اسماء کہتی ہیں کہ وہ کہے گا میں نہیں جانتا میں لوگوں سے کچھ کہتے ہوئے سنتا تھا تو میں نے بھی کہہ دیا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2005


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2005
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ انْکَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا انْکَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ بِأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ بَدَأَ فَکَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَائَةَ ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَقَرَأَ قِرَائَةً دُونَ الْقِرَائَةِ الْأُولَی ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَقَرَأَ قِرَائَةً دُونَ الْقِرَائَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ رَکَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَکَعَ أَيْضًا ثَلَاثَ رَکَعَاتٍ لَيْسَ فِيهَا رَکْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْ الَّتِي بَعْدَهَا وَرُکُوعُهُ نَحْوًا مِنْ سُجُودِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ وَتَأَخَّرَتْ الصُّفُوفُ خَلْفَهُ حَتَّی انْتَهَيْنَا وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی انْتَهَی إِلَی النِّسَائِ ثُمَّ تَقَدَّمَ وَتَقَدَّمَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّی قَامَ فِي مَقَامِهِ فَانْصَرَفَ حِينَ انْصَرَفَ وَقَدْ آضَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ لِمَوْتِ بَشَرٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِکَ فَصَلُّوا حَتَّی تَنْجَلِيَ مَا مِنْ شَيْئٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ لَقَدْ جِيئَ بِالنَّارِ وَذَلِکُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا وَحَتَّی رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ کَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِنْ فُطِنَ لَهُ قَالَ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّی رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّی مَاتَتْ جُوعًا ثُمَّ جِيئَ بِالْجَنَّةِ وَذَلِکُمْ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّی قُمْتُ فِي مَقَامِي وَلَقَدْ مَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ فَمَا مِنْ شَيْئٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ ابن نمیر، ح، عبدالملک، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ جس دن ابراہیم بن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی اس دن سورج گرہن ہوا تو لوگوں نے کہا کہ یہ گرہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے ہو اہے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوعات اور چار سجدات کے ساتھ  (دو رکعت) پڑھائیں، شروع میں تکبیر کہی پھر خوب لمبی قرات کی پھر اسی طرح رکوع کیا جس طرح قیام کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا تو دوسری قرات سے کم قرات کی پھر کھڑے ہونے کی مقدار رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھایا پھر سجود کے لئے جھکے تو دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے تو اسی طرح ایک رکعت تین رکوعات کے ساتھ ادا کی اس طرح کہ اس میں ہر بعد والا رکوع اپنے سے پہلے والے رکوع سے کم ہوتا اور ہر رکوع سجدہ کے برابر تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے ہٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیچھے والی صفیں بھی پیچھے ہوئیں یہاں تک کہ ہم عورتوں کے قریب آگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اور صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آگے بڑھے یہاں تک کہ اپنی جگہ پر جا کھڑے ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور سورج کھل چکا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اے لوگو! سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اور یہ لوگوں میں سے کسی کی موت کی وجہ سے بے نور نہیں ہوتے، ابوبکر نے کہا کسی بشر کی موت کی وجہ سے جب تم اس میں کوئی چیز دیکھو تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائے، ہر وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے میں نے اپنی اس نماز میں اسے دیکھا ہے، میرے پاس دوزخ لائی گئی یہ اس وقت تھا جب تم نے مجھے اس کی لپٹ کے خوف سے پیچھے ہوتے دیکھا یہاں تک کہ میں نے اس میں نو کیلی لکڑی والے کو دیکھا جو اپنی انتڑیوں کو آگ میں کھینچتا تھا یہ حاجیوں کے کپڑے وغیرہ آنکڑے میں ڈال کر چرایا کرتا تھا اگر کسی کو اطلاع ہو جاتی تو کہتا کہ وہ آنکڑے میں الجھ گئی ہے اور اگر اسے پتہ نہ چلتا تو وہ لے کر چلا جاتا اور یہاں تک کہ اس میں میں نے ایک بلی والی کو دیکھا جس نے اس کو باندھ دیا تھا اور نہ تو اس کو کھلاتی اور نہ چھوڑتی تھی کہ وہ زمین میں سے کیڑے مکوڑے کھالے یہاں تک کہ مرگئی، پھر میرے پاس جنت لائی گئی یہ اس وقت جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا یہاں تک کہ میں اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا اور میں نے اپنا ہاتھ دراز کر کے اس کا پھل لینا چاہا تاکہ تمہیں دکھاؤں پھر میرا ارادہ ہو اکہ ایسا نہ کروں ہر وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے میں نے اس کی اپنی اس نماز میں دیکھا ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2004


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2004
حَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَائَ طَوِيلَةً وَلَمْ يَقُلْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ
ابوغسان مسمعی، عبدالملک بن صباح، ہشام اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی گئی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دوزخ میں ایک سیاہ فام و دراز قد حمیری عورت کو دیکھا اور بنی اسرائیل میں سے تھی نہیں فرمایا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2003


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
 نماز کسوف کے وقت جنت دوزخ کے بارے میں نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کیا پیش کیا گیا۔
حدیث نمبر
2003
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّی جَعَلُوا يَخِرُّونَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ نَحْوًا مِنْ ذَاکَ فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ عُرِضَ عَلَيَّ کُلُّ شَيْئٍ تُولَجُونَهُ فَعُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا أَخَذْتُهُ أَوْ قَالَ تَنَاوَلْتُ مِنْهَا قِطْفًا فَقَصُرَتْ يَدِي عَنْهُ وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ تُعَذَّبُ فِي هِرَّةٍ لَهَا رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ وَرَأَيْتُ أَبَا ثُمَامَةَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ وَإِنَّهُمْ کَانُوا يَقُولُونَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ إِلَّا لِمَوْتِ عَظِيمٍ وَإِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُرِيکُمُوهُمَا فَإِذَا خَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّی تَنْجَلِيَ
یعقوب بن ابراہیم دورقی، اسماعیل بن علیہ، ہشام دستوائی، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن ہوگیا، سخت گرمی کے دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز ادا کی تو قیام کو اتنا لمبا کیا کہ لوگ گرنا شروع ہو گئے پھر لمبا رکوع کیا پھر سر اٹھایا طویل دیر تک کھڑے رہے پھر طویل رکوع کیا پھر سر اٹھایا تو دیر تک کھڑے رہے پھر دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے تو اسی طرح کیا یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے، پھر فرمایا مجھ پر ہر وہ چیز پیش کی گئی جس میں تم کو داخل ہونا ہے مجھ پر جنت پیش کی گئی حتی کہ میں اگر اس میں سے خوشہ لینا چاہتا تو لے سکتا تھا، یا فرمایا ک میں نےاس میں سے کچھ لینا چاہا تو میرا ہاتھ قاصر رہا اور مجھ پر دوذخ پیش کی گئی تو میں نے اس میں دیکھا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک عورت کو ایک بلی کو باندھنے کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا جو نہ تو اس کو کھلاتی تھی اور نہ چھوڑتی تھی کہ وہ زمین کے کیڑے مکوڑے کھالے، اور میں نے ابوثمامہ عمرو بن مالک کو دیکھا کہ وہ دوزخ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹتا پھر تا تھا، لوگ کہتے تھے کہ سورج اور چاند کسی بڑے کی موت کی وجہ سے بے نور ہوتے ہیں حالانکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں جن کو وہ تمہیں دکھاتا ہے جب وہ بے نور ہو جائیں تو نماز پڑھو یہاں تک کہ وہ روشن ہو جائیں-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2002



کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
نماز خسوف میں عذاب قبر کے ذکر کے بیان میں
حدیث نمبر
2002
حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ح و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، ابن ابی عمر، سفیان، یحیی بن سعید اسی حدیث کی رو سے دوسری سند مذکور ہے-


contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:2001


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
سورج  گرہن کا بیان
باب
نماز خسوف میں عذاب قبر کے ذکر کے بیان میں
حدیث نمبر
2001
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَکِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِذًا بِاللَّهِ ثُمَّ رَکِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْکَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيْ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْکَبِهِ حَتَّی انْتَهَی إِلَی مُصَلَّاهُ الَّذِي کَانَ يُصَلِّي فِيهِ فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَائَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ فَرَکَعَ رُکُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَلِکَ الرُّکُوعِ ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُکُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ کَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ فَکُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
عبداللہ بن مسلمة قعنبی، ابن بلال، یحیی بن عمرة سے روایت ہے کہ ایک یہودیہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے آکر کچھ مانگا تو انہوں نے کہا اللہ تجھے عذاب قبر سے پناہ دے، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا، میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو کیا عذاب قبر ہوگا؟ عمرہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس سے اللہ کی پناہ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح سواری پر سوار ہوئے تو سورج گرہن ہوگیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری سے اتر کر اپنی نماز پڑھنے کی جگہ تشریف لائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو گئے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام طویل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکوع کیا، پھر کھڑے ہوئے، پھر پہلے قیام سے کم لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا تو طویل لیکن پہلے رکوع سے کم، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر اٹھایا تو سورج گرہن نکل چکا تھا، آپ نے فرمایا میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم قبروں میں آزمائے جاؤ گے فتنہ دجال کی طرح، عمرہ کہتی ہیں میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے بعد سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عذاب دوزخ سے اور عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.