Wednesday, 9 November 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1160,TotalNo:3558


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
طلاق کا بیان
باب
 حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دینے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلا ق واقع نہ ہوگی اور مرد کو رجو ع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں
حدیث نمبر
3558
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ وَقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِکَهَا حَتَّی تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَی ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّی تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْکَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَائُ وَزَادَ ابْنُ رُمْحٍ فِي رِوَايَتِهِ وَکَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِکَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَکَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا وَإِنْ کُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْکَ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَکَ وَعَصَيْتَ اللَّهَ فِيمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِکَ قَالَ مُسْلِم جَوَّدَ اللَّيْثُ فِي قَوْلِهِ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً
 یحیی بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابن رمح، قتیبہ، لیث، لیث بن سعد، نافع، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ایک طلاق- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کاحکم دیا پھر وہ اس سے رکے رہے یہاں تک کہ وہ پاک ہوگئی پھر انہی کے پاس حیض آیا دوسرا حیض پھراسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ وہ پاک ہوگئی اپنے حیض سے- پس اگر وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کرتے تو اسے طلاق دیتے جب وہ پاک ہوئی جماع کرنے سے پہلے- پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیاہے ان کیلئے جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو اور ابن رمح نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیاہے کہ عبداللہ سے جب اس بارے میں پوچھا جاتا تو فرماتے کہ اگر تونے اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دی تھی- (توتم رجوع کرسکتے ہو) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے یہی حکم دیا تھا یا اگر تونے تین طلاقیں دیں تو تجھ پر حرام ہوگئی-یہاں تک کہ تیرے علاوہ دوسرے خاوند سے نکاح کرے اور تو نے اللہ کی نافرمانی کی جو اس نے تجھے تیری بیوی کی طلاق کے متعلق حکم دیا - امام مسلم رحمہ اللہ نے کہالیث اپنے قول تطلیقة واحدة میں زیادہ مضبوط ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment