کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
غلام آزاد کرنے کا بیان
باب
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
حدیث نمبر
3686
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ أَرَادَ أَهْلُهَا أَنْ يَبِيعُوهَا وَيَشْتَرِطُوا وَلَائَهَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا فَإِنَّ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ قَالَتْ وَعَتَقَتْ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا قَالَتْ وَکَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَکُمْ هَدِيَّةٌ فَکُلُوهُ
زہیر بن حرب، محمد بن العلاء، ابومعاویہ، ہاشم بن عروہ، عبدالرحمان بن قاسم، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تین مسائل پیدا ہوئے ایک تو یہ کہ اس کے مالکوں نے اس کے بیچنے کا تو ارادہ کیا لیکن اس کی ولاء کی شرط رکھی میں نے اس بات کا نبی کریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو اس کو خرید لے اور آزاد کردے بے شک ولاء کا حق اسی کو ہے جس نے آزاد کیا دوسرا یہ کہ وہ آزاد کر دی گئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دیا تو اس نے اپنے نفس کو یعنی علیحدگی کو پسند کیا تیسرا یہ کہ لوگ بریرہ کو صدقہ دیا کرتے تھے اور وہ ہمارے لئے ہدیہ کرتی تھیں میں نے اس بات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ اس پر صدقہ ہے اور تمہارے لئے ہدیہ ہے اس کو کھاؤ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment