کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
غلام آزاد کرنے کا بیان
باب
اپنے مولی کے علاوہ کے لئے کسی دوسرے کو مولی بنانے کی حرمت کے بیان میں
حدیث نمبر
3699
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا کِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ قَالَ وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَقَدْ کَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَائُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ وَمَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا
ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا تو فرمایا جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب اللہ کی اس کتاب کے علاوہ ہے جس کو ہم پڑھتے ہیں اور وہ کتاب ان کی تلوار کی میان میں لٹکی ہوئی تھی تو اس نے جھوٹ کہا اس میں اونٹوں کی عمروں اور زخموں کی دیات کا ذکر ہے اور مزید اس میں یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ مقام عیر سے لے کر ثورِ حرم تک ہے پس جو مدینہ میں کوئی بدعت نکالے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اس کی طرف سے قیامت کے دن نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ کوئی نفل اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ایک ان میں سے ادنی مسلمان بھی ذمہ لے سکتا ہے اور جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی یا اپنے مولی کے کسی اور کی طرف نسبت کی تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالی اس کا قیامت کے دن نہ کوئی فرض قبول کرے گا نہ نفل-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment