Tuesday, 8 November 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:1135,TotalNo:3533


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
رضاعت کا بیان
باب
 بیویوں کے درمیان برابری کرنے اور ہر بیوی کے پاس ایک رات اور دن گزارنے کی سنت کے بیان میں
حدیث نمبر
3533
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ کَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعُ نِسْوَةٍ فَکَانَ إِذَا قَسَمَ بَيْنَهُنَّ لَا يَنْتَهِي إِلَی الْمَرْأَةِ الْأُولَی إِلَّا فِي تِسْعٍ فَکُنَّ يَجْتَمِعْنَ کُلَّ لَيْلَةٍ فِي بَيْتِ الَّتِي يَأْتِيهَا فَکَانَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ فَجَائَتْ زَيْنَبُ فَمَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ هَذِهِ زَيْنَبُ فَکَفَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَتَقَاوَلَتَا حَتَّی اسْتَخَبَتَا وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَمَرَّ أَبُو بَکْرٍ عَلَی ذَلِکَ فَسَمِعَ أَصْوَاتَهُمَا فَقَالَ اخْرُجْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَی الصَّلَاةِ وَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ الْآنَ يَقْضِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ فَيَجِيئُ أَبُو بَکْرٍ فَيَفْعَلُ بِي وَيَفْعَلُ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ أَتَاهَا أَبُو بَکْرٍ فَقَالَ لَهَا قَوْلًا شَدِيدًا وَقَالَ أَتَصْنَعِينَ هَذَا
 ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ بن سوار، سلیمان بن مغیرہ، ثابت، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے درمیان باری مقرر فرماتے تو ہر عورت کے پاس نویں دن ہی تشریف لاتے اور وہ سب ہر رات اس گھر میں جمع ہو جاتیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تشریف لانا ہوتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر میں تھے کہ سیدہ زینب آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا عائشہ نے کہا یہ زینب ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا دونوں کے درمیان تکرار شروع ہو گئی یہاں تک کہ آواز بلند ہو گئی نماز کی تکبیر ہو گئی ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریب سے گزرے تو انہوں نے ان دونوں کی آواز کو سنا تو فرمایا اے اللہ کے رسول آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے تشریف لے چلیں اور ان کے منہ میں مٹی ڈالیں نبی کریم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لے گئے تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پوری فرما کر تشریف لائیں گے اور ابوبکر بھی آئیں گے اور مجھے برا بھلا کہیں گے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پوری کر چکے تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور سخت سست کہا اور کہا کیا تو ایسا ایسا کرتی ہے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment