کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
طلاق کا بیان
باب
اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلا ق کی نیت نہیں کی
حدیث نمبر
3584
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَائَ وَالْعَسَلَ فَکَانَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ دَارَ عَلَی نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُکَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْکِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْکِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِکِ لَهُ وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی سَوْدَةَ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ کِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَی الْبَابِ فَرَقًا مِنْکِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ لَا قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ قَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَی صَفِيَّةَ فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيکَ مِنْهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْکُتِي قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا سَوَائً
ابوکریب، محمد بن العلاء، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میٹھی چیز پسند کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب عصر کی نماز ادا کر لیتے تو اپنی ازواج کے پاس چکر لگاتے اور ان کے پاس تشریف لایا کرتے ایک دن حفصہ کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر تک ان کے پاس ٹھہرے رہے میں نے اس بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات میں سے ایک بیوی کے پاس اس کی قوم نے شہد کی ایک کپی ہدیہ بھیجی تھی جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پلایا ہے میں نے کہا اللہ کی قسم! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک حیلہ کروں گی اور میں نے اس کاسودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ذکر کیا اور میں نے کہا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے پاس تشریف لائیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھ سے کہیں کہ نہیں تو تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہنا یہ بدبو کیسی ہے؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بد بو آنا سخت ناپسند تھا، پس اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تجھے یہ کہیں کہ مجھے حفصہ نے شہد کا شربت پلایا ہے تو تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہوکہ شہد کی مکھی نے عرفط درخت کا رس چوسا ہے اسی درخت سے مغافیر بنتی ہے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی کہوں گی اور تم بھی اے صفیہ یہی کہنا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سودہ کے پاس آئے فرماتی ہیں کہ سودہ نے کہا اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تحقیق ارادہ کیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وہی بات کہوں جو تم نے مجھے کہی تھی اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ پر ہی ہوں تجھ سے ڈرتے ہوئے پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب تشریف لائے توا سنے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغافیر کھایا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کیا یہ بدبو کیسی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے انہوں نے کہا کہ شہد کی مکھیوں نے عرفط کے درخت سے رس لیا ہوگا پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفیہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کہا جب حفصہ کے ہاں تشریف لائے تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس شہد سے پلاؤں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت وحاجت نہیں ہے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ سودہ نے سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اللہ کی قسم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہد سے روک دیا ہے میں نے ان سے کہا خاموش رہو آگے ایک اور سند ذکر کی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment