کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
غلام آزاد کرنے کا بیان
باب
ولاء آزاد کرنے والے ہی کا حق ہے کے بیان میں
حدیث نمبر
3682
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَائَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي کِتَابَتِهَا وَلَمْ تَکُنْ قَضَتْ مِنْ کِتَابَتِهَا شَيْئًا فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَی أَهْلِکِ فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْکِ کِتَابَتَکِ وَيَکُونَ وَلَاؤُکِ لِي فَعَلْتُ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَائَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْکِ فَلْتَفْعَلْ وَيَکُونَ لَنَا وَلَاؤُکِ فَذَکَرَتْ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي کِتَابِ اللَّهِ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنْ شَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، عروبہ، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس اپنی مکاتبت میں مدد ما نگنے کے لیے آئی اور اس نے اپنی مکاتبت میں سے کچھ ادا نہ کیا تھا - تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے کہا اپنے مالکوں کے پاس واپس جاؤ - پس اگر وہ پسند کریں تو میں تمہارا بدل کتابت ادا کر دوں گی اور تیرا حق ولاء میرے لیے ہو جائے گا- بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مالکوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے انکار کردیا اور کہا کہ اگر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ثواب کی نیت سے تجھ پر (احسان) کرنا چا ہیں تو تجھ کو آ زاد کردیں لیکن تیرے ولاء پر ہمارا حق ہوگا- سید عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تم خرید و اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے- پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگوں کو کیا ہوگا ہے کہ ایسی شرطیں باندھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں اور جو ایسی شرط لگائے جو اللہ کی کتاب میں نہیں تو اس کا پورا کرنا ضروری نہیں اگرچہ وہ ایسی شرط سو مرتبہ لگائے- اللہ کی طرف سے لگائی جانے والی شرط فرمان ہی پوری کرنے کے لیے زیادہ حقدار اور مضبوط ہے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment