کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
رضاعت کا بیان
باب
باکرہ کنواری اور ثیبہ شادی شدہ کے پاس شب زفاف گزارنے کے بعد شوہر کے ٹھہرنے کی مقدار کے بیان میں
حدیث نمبر
3527
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا لَيْسَ بِکِ عَلَی أَهْلِکِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَکِ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ ثُمَّ دُرْتُ قَالَتْ ثَلِّثْ
یحیی بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، عبدالملک بن ابی بکر، حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام سلمہ سے شادی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پاس صبح کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تو اپنے خاوند کے ہاں حقیر نہیں ہے اگر تو چاہے تو میں ہفتہ تیرے پاس رہوں اگر چاہے تو میں تین دن گزاروں پھر دورہ کروں یعنی باقی بیویوں کے پاس بھی اتنا ہی وقت گزاروں تو انہوں نے کہا تین روزہ ہی قیام فرمائیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment