Saturday, 1 October 2011

Jild2,Bil-lihaaz Jild Hadith no:670,TotalNo:3068


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
 قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق دائیں جانب سے سر منڈانا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں
حدیث نمبر
3068
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ وَاقِفٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ فَقَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَقَالَ إِنِّي أَفَضْتُ إِلَی الْبَيْتِ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهُ سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْئٍ إِلَّا قَالَ افْعَلُوا وَلَا حَرَجَ
 محمد بن عبداللہ بن قہزاد علی بن حسن، عبداللہ بن مبارک، محمد بن ابی حفصہ، عیسی بن طلحہ، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک آدمی قربانی کے دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ کے پاس کھڑے تھے تو اس آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے حلق کرلیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اب کنکریاں مار لو اور کوئی حرج نہیں اور ایک دوسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو اسی طرح ایک تیسرا آدمی آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے بیت اللہ کا طواف افاضہ کرلیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب کنکریاں مار لو راوی کہتے ہیں کہ اس دن میں نے نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی بھی عمل کے بارے میں پوچھا گیا ہو سوائے اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں اب کرلو -



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment