کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
مکہ مکرمہ میں شکار کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر
3207
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ لَا هِجْرَةَ وَلَکِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَتْحِ مَکَّةَ إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَی يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا يُعْضَدُ شَوْکُهُ وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا وَلَا يُخْتَلَی خَلَاهَا فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا الْإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ فَقَالَ إِلَّا الْإِذْخِرَ
اسحق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے- فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن مکہ فتح ہوا تو فرمایا کہ ہجرت نہیں لیکن جہاد اور نیت ہے اور جب تمہیں (جہاد کے لئے) بلایا جائے تو جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اس شہر کو اللہ نے آسمان وزمین کی پیدائش کے دن حرم قرار دیا تھا تو یہ اللہ کے حرم قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک حرم رہے گا اور اس حرم میں میرے لیے بھی ایک دن میں تھوڑی دیر کے لئے قتال حلال ہوا تھا تو اب یہ اللہ کے حرم قرار دینے کی وجہ سے قیامت تک حرم رہے گا نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں اور نہ ہی اس کے شکار کو بھگایا جائے اور کوئی بھی یہاں گری پڑی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے کہ اسے اس کے مالک کو پہنچائی جائے اور نہ اس کی گھاس کاٹی جائے تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول سوائے گھاس کے یعنی گھاس کو مستثنی قرار دے دیں کیونکہ یہ گھاس لوہاروں اور زرگروں (سنار) کے کام آتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا سوائے گھاس کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھاس کو مستثنی فرما دیا کیونکہ یہ جلانے کے کام آتی ہے
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment