کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
کمزور لوگ اور عورتوں وغیرہ کو مزدلفہ سے منی کی طرف رات کے حصہ میں روانہ ہونے کے استحباب کے بیان میں۔
حدیث نمبر
3027
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَی أَسْمَائَ قَالَ قَالَتْ لِي أَسْمَائُ وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ لَا فَصَلَّتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ يَا بُنَيَّ هَلْ غَابَ الْقَمَرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ ارْحَلْ بِي فَارْتَحَلْنَا حَتَّی رَمَتْ الْجَمْرَةَ ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا فَقُلْتُ لَهَا أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَتْ کَلَّا أَيْ بُنَيَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ
محمد بن ابی بکر مقدامی، یحیی، قطان، ابن جریر، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت اسماء کے غلام بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا حالانکہ وہ دار مزدلفہ کے پاس تھیں کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں توحضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کچھ وقت نماز پڑھی پھر فرمایا اے میرے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ چلو میرے ساتھ تو ہم چلے یہاں تک کہ حضرت اسماء نے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر انہوں نے اپنی جگہ میں نماز پڑھی میں نے عرض کیا کہ ہم نے بہت جلدی کی ہے حضرت اسماء نے فرمایا ہرگز نہیں اے میرے بیٹے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کے جلدی جانے کی اجازت دی ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment