کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
حج کے دنوں میں پانی پلا نے کے فضیلت اور اس سے دینے کے استحباب کے بیان میں
حدیث نمبر
3084
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ قَالَ کُنْتُ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَأَتَاهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ مَا لِي أَرَی بَنِي عَمِّکُمْ يَسْقُونَ الْعَسَلَ وَاللَّبَنَ وَأَنْتُمْ تَسْقُونَ النَّبِيذَ أَمِنْ حَاجَةٍ بِکُمْ أَمْ مِنْ بُخْلٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ الْحَمْدُ لِلَّهِ مَا بِنَا مِنْ حَاجَةٍ وَلَا بُخْلٍ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی رَاحِلَتِهِ وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ فَاسْتَسْقَی فَأَتَيْنَاهُ بِإِنَائٍ مِنْ نَبِيذٍ فَشَرِبَ وَسَقَی فَضْلَهُ أُسَامَةَ وَقَالَ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ کَذَا فَاصْنَعُوا فَلَا نُرِيدُ تَغْيِيرَ مَا أَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، حمید، بکر بن عبداللہ، حضرت بکر بن عبداللہ مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں کعبةاللہ کے پاس حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہاکہ اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچازاد تو شہد اور دودھ پلاتے ہیں اور آپ نبیذ (یعنی کھجوروں کا پانی) پلاتے ہیں؟ کیا اس کی وجہ غربت یا بخل؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نہ تو ہم غریب ہیں اور نہ بخیل بات دراصل یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر تشریف لائے اور حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سواری پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں نبیذ کا برتن پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیا اور اس میں سے بچا ہوا حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا اور خوب کام کیا تو تم اسی طرح کرو- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جو حکم دیا ہے ہم اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرنا چاہتے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment