کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حج کا بیان
باب
قربانی کے دن کنکریاں مارنے پھر قربانی کرنے پھر حلق کرانے اور حلق دائیں جانب سے سر منڈانا شروع کرنے کی سنت کے بیان میں
حدیث نمبر
3059
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَی جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَی الْبُدْنِ فَنَحَرَهَا وَالْحَجَّامُ جَالِسٌ وَقَالَ بِيَدِهِ عَنْ رَأْسِهِ فَحَلَقَ شِقَّهُ الْأَيْمَنَ فَقَسَمَهُ فِيمَنْ يَلِيهِ ثُمَّ قَالَ احْلِقْ الشِّقَّ الْآخَرَ فَقَالَ أَيْنَ أَبُو طَلْحَةَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، ہشام، محمد، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور ان کو قربان کیا اور حجام بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے سر کے بارے میں فرمایا تو اس نے دائیں طرف سے بال مونڈ دئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بالوں کو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھے ان میں تقسیم فرما دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دوسری طرف سے مونڈ دے اور فرمایا کہ ابوطلحہ کہاں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بال ان کو عطا فرما دئیے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment