کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
روزوں کا بیان
باب
سفر میں روزہ رکھنے والے کے اجر کے بیان میں جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگے رہیں
حدیث نمبر
2528
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي قَزَعَةُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَکْثُورٌ عَلَيْهِ فَلَمَّا تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْهُ قُلْتُ إِنِّي لَا أَسْأَلُکَ عَمَّا يَسْأَلُکَ هَؤُلَائِ عَنْهُ سَأَلْتُهُ عَنْ الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ فَقَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی مَکَّةَ وَنَحْنُ صِيَامٌ قَالَ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَکُمْ فَکَانَتْ رُخْصَةً فَمِنَّا مَنْ صَامَ وَمِنَّا مَنْ أَفْطَرَ ثُمَّ نَزَلْنَا مَنْزِلًا آخَرَ فَقَالَ إِنَّکُمْ مُصَبِّحُو عَدُوِّکُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَی لَکُمْ فَأَفْطِرُوا وَکَانَتْ عَزْمَةً فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَصُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِکَ فِي السَّفَرِ
محمد بن حاتم، عبدالرحمان بن مہدی، معاویہ بن صالح، حضرت ربیعہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے قزعہ نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اس حال میں کہ ان کے پاس لوگوں کا جمگھٹا لگا ہوا تھا تو جب لوگ ان سے علیحدہ ہو گئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ میں آپ سے وہ نہیں پوچھوں گا جس کے بارے میں یہ پوچھ رہے ہیں (راوی کہتے ہیں) کہ میں نے سفر میں روزہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ کے ساتھ مکہ مکرمہ تک سفر کیاہے اور ہم روزہ کی حالت میں تھے انہوں نے فرمایا کہ ہم ایک جگہ اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم دشمن کے قریب ہو گئے ہو اور اب افطار کرنا(روزہ نہ رکھنا) تمھارے لئے قوت وطاقت کا باعث ہوگا تو روزہ کی رخصت تھی پھر ہم میں سے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ نہ رکھا پھر جب ہم دوسری منزل تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم صبح کے وقت اپنے دشمن کے پاس گئے اور روزہ نہ رکھنے سے تمہارے اندر طاقت زیادہ ہوگی اس لئے روزہ نہ رکھو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ حکم ضروری تھا اس لئے ہم نے روزہ نہیں رکھا پھر ہم نے دیکھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں روزہ رکھتے رہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment