مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر
1837
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ کُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ الرَّکْعَتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ
حرملہ بن یحیی تجیبی، عبداللہ بن وہب، ابن الحارث، بکیر، کریب حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں ان سے پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو پڑھتی ہیں اور ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سےمنع فرماتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مل کر اس نماز سے منع کرتا تھا کریب نے کہا کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گیا جنہوں نے مجھے بھیجا ان کا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ تو ام سلمہ سے پوچھ تو میں واپس ان کی طرف گیا اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرمان کی خبر دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف لوٹا دیا وہی پیغام دے کر جو پیغام دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف بھیجا تھا تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی چند عورتیں تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے ایک باندی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا میں نے اس سے کہا کہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں کھڑی رہنا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان دو رکعتوں کے بارے میں منع کرتے ہوئے سنا ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر اگر ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے کھڑی رہنا حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ اس باندی نے ایسے ہی کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو وہ پیچھے ہو گئی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابوامیہ کی بیٹی تو نے عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی عبدالقیس کے کچھ لوگ ان کی قوم میں سے اسلام قبول کرنے کے لیے آئے تھے جس میں مشغولیت کی وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں ان کو میں نے پڑھا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment