مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حدیث نمبر
1817
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ
عبد بن حمید، حسین بن علی جعفی، زائدہ، منصور، حضرت شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی جسے نھیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک رکعت میں مفصل پڑھتا ہوں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تم شعر کی طرح تیزی سے پڑتھے ہو گے، میں ان شمائل سورتوں کو جانتاہوں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھا کرتے تھے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment