Saturday, 9 July 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:1813

کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
 قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں
حدیث نمبر
1813
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ أَلِفًا تَجِدُهُ أَمْ يَائً مِنْ مَائٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَائٍ غَيْرِ يَاسِنٍ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَکُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَکِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر، وکیع، اعمش، حضرت ابووائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے نھیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ؟ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تو نے اس حرف کے علاوہ پورا قرآن یاد کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا بہت سے لوگ ایسے قرآن پڑھتے ہیں کہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا لیکن قرآن دل میں اتر جائے اور اس میں راسخ ہو جائے تو پھر نفع دیتا ہے نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ان نظائر میں سے جانتاہوں کہ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے حضرت علقمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پیچھے گئے پھر وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور نھیک بن سنان نہیں کہا-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment