Saturday, 9 July 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:1809

کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
 قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں ) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں
حدیث نمبر
1809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ جَدِّهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَائَةً أَنْکَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَةً سِوَی قَرَائَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَائَةً أَنْکَرْتُهَا عَلَيْهِ وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَی قِرَائَةِ صَاحِبِهِ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنْ التَّکْذِيبِ وَلَا إِذْ کُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا فَقَالَ لِي يَا أُبَيُّ أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَی أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَی حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَی أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَلَکَ بِکُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُکَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ کُلُّهُمْ حَتَّی إِبْرَاهِيمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسی بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے دادا سے، حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور وہ ایسی قرات پڑھنے لگا کہ جو میرے علم میں نہیں تھی پھر ایک دوسرا آدمی مسجد میں داخل ہوا اور وہ اس کے علاوہ کوئی اور قرات پڑھنے لگا پھر جب ہم نے نماز پوری کر لی تو ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے میں نے عرض کیا کہ اس آدمی نے ایسی قرات پڑھی کہ جس پر مجھے تعجب ہوا اور پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے اس کے علاوہ کوئی اور قرات پڑھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے پڑھنے کو اچھا فرمایا اور میرے دل میں ایسی تکذیب سی آئی جو زمانہ جاہلیت میں تھی تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری اس کیفیت کو دیکھا جو مجھ پر ظاہر ہو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا گو یا کہ میں اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابی پہلے مجھے حکم تھا کہ میں قرآن کو ایک حرف پر پڑھوں تو میں نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما دوسری مرتبہ مجھے دو حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا تو میں نے پھر اللہ تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما تو تیسری مرتبہ مجھے سات حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جتنی مرتبہ امت کی آسانی کے لیے مجھ سے سوال کیا ہے اتنی ہی مرتبہ کے بدلہ میں مجھ سے مانگو، میں نے عرض کیا اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے محفوظ کرلی جس دن ساری مخلوق حتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی میری طرف آئیں گے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment