مسلم شریف
کتاب
فضائل قرآن
باب
حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حدیث نمبر
1773
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ النِّسَائَ حَتَّی إِذَا بَلَغْتُ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَی جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن پڑھ کر سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل کیا گیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے سورة النسا پڑھنی شروع کر دی یہاں تک کہ جب میں اس (فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) پر پہنچا تو میں انے اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو جاری ہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment