کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حدیث نمبر
1716
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْئٍ کَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ قَالَتْ کَانَ إِذَا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ وَمِيکَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَيْنَ عِبَادِکَ فِيمَا کَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنْ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ إِنَّکَ تَهْدِي مَنْ تَشَائُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ
محمد بن مثنی، محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابومعن، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، یحیی بن ابی کثیر، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو اپنی نماز شروع فرماتے تو کس طرح شروع کرتے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ جب بھی رات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز شروع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ جبرائیل اور میکائیل اور اسرافیل کے پروردگار! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے! ظاہر اور باطن کے جاننے والے! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں مجھے سیدھا راستہ دکھا اور اے اللہ حق کی جن باتوں میں اختلاف ہوگیا ہے تو مجھے ان میں سیدھے راستے پر رکھ بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment