کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حدیث نمبر
1701
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي رِشْدِينٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ وَلَمْ يَذْکُرْ غَسْلَ الْوَجْهِ وَالْکَفَّيْنِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ أَتَی الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَتَوَضَّأَ وُضُوئًا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ ثُمَّ أَتَی فِرَاشَهُ فَنَامَ ثُمَّ قَامَ قَوْمَةً أُخْرَی فَأَتَی الْقِرْبَةَ فَحَلَّ شِنَاقَهَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوئًا هُوَ الْوُضُوئُ وَقَالَ أَعْظِمْ لِي نُورًا وَلَمْ يَذْکُرْ وَاجْعَلْنِي نُورًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہناد بن سری، ابوالاحوص، سعید بن مسروق، سلمہ بن کہیل، ابی رشدین مولی ابن عباس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری اور آگے اسی طرح حدیث بیان کی لیکن اس حدیث میں منہ اور ہاتھ دھونے کا ذکر نہیں ہے سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا اور دو وضوؤں کے درمیان والا وضو فرمایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آکر سو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری مرتبہ اٹھ کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشکیزے کے پاس آئے اور اس کا منہ کھولا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو فرمایا کہ وہ ہی وضو تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اللہ مجھے عظیم روشنی فرما( وَاجْعَلْنِي نُورًا) کا ذکر نہیں کیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment