کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
نبی صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور رات کی دعا کے بیان میں
حدیث نمبر
1698
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئًا خَفِيفًا قَالَ وَصَفَ وُضُوئَهُ وَجَعَلَ يُخَفِّفُهُ وَيُقَلِّلُهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخْلَفَنِي فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّی ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ أَتَاهُ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ فَخَرَجَ فَصَلَّی الصُّبْحَ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ قَالَ سُفْيَانُ وَهَذَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً لِأَنَّهُ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَنَامُ عَيْنَاهُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُهُ
ابن ابی عمر، محمد بن حاتم، ابن عیینہ، سفیان، عمرو ابن دینار، کریب مولی ابن عباس سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات اپنی خالہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گزاری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لٹکے ہوئے مشکیزے سے ہلکا سا وضو فرمایا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ہلکے وضو کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضو ہلکا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی بھی کم استعمال فرمایا، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر میں بھی کھڑا ہوا اور اسی طرح سے کیا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیچھے کر کے اپنے دائیں طرف کھڑ اکر دیا اور نماز پڑھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خراٹے لینے لگے پھر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور نماز کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی حالانکہ آپ نے وضو نہیں فرمایا ( راوی) سفیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے یہ خصوصیت ہے کیونکہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کی آنکھیں سوتی ہیں اور آپ کا قلب اطہر نہیں سوتا۔(اس لئے وضو نہیں ٹوٹا )
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment