کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
رمضان المبار ک میں قیام یعنی تراویح کی ترغیب اور اس کی فضیلت کے بیان میں۔
حدیث نمبر
1689
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ فَصَلَّی فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّی رِجَالٌ بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ بِذَلِکَ فَاجْتَمَعَ أَکْثَرُ مِنْهُمْ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَذْکُرُونَ ذَلِکَ فَکَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ فَخَرَجَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا کَانَتْ اللَّيْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهِ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَفِقَ رِجَالٌ مِنْهُمْ يَقُولُونَ الصَّلَاةَ فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی خَرَجَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قَضَی الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ تَشَهَّدَ فَقَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ شَأْنُکُمْ اللَّيْلَةَ وَلَکِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْکُمْ صَلَاةُ اللَّيْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا
حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خبر دیتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کے درمیانی حصہ میں نکلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی تو کچھ آدمیوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی تو صبح لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسری رات نکلے تو پہلی رات سے زیادہ لوگ جمع ہو گئے تو انہوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو لوگوں نے صبح کو اس بات کا ذکر کیا، تیسری رات میں مسجد والے بہت زیادہ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی پھر جب چوتھی رات ہوئی تو مسجد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد والوں کی طرف نہ نکلے، مسجد والوں میں سے کچھ آدمی پکار کر کہنے لگے نماز! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھربھی ان کی طرف نہ نکلے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز کے لئے نکلے تو جب فجر کی نماز پوری ہو گئی تو صحابہ کرام کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم متوجہ ہوئے پھر تشہد پڑھا اور فرمایا اما بعد کہ تمہاری آج کی رات کی حالت مجھ سے چھپی ہوئی نہ تھی لیکن مجھے ڈر لگا کہ کہیں تم پر رات کی نماز فرض نہ کر دی جائے پھر تم اس کے پڑھنے سے عاجز آجاؤ-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment