کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
باب
رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر ایک رکعت رات کے آخری حصہ میں ہے
حدیث نمبر
1665
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ أَرَأَيْتَ الرَّکْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ أَؤُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَائَةَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی وَيُوتِرُ بِرَکْعَةٍ قَالَ قُلْتُ إِنِّي لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُکَ قَالَ إِنَّکَ لَضَخْمٌ أَلَا تَدَعُنِي أَسْتَقْرِئُ لَکَ الْحَدِيثَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی وَيُوتِرُ بِرَکْعَةٍ وَيُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ کَأَنَّ الْأَذَانَ بِأُذُنَيْهِ قَالَ خَلَفٌ أَرَأَيْتَ الرَّکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ وَلَمْ يَذْکُرْ صَلَاةِ
خلف بن ہشام، ابوکامل، حماد بن زید، انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا، میں نے کہا کہ صبح کی نماز سے پہلے کی دو رکعتوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں ان میں لمبی قرات کروں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ رات کو دو دو رکعات نماز پڑھتے تھے اور ایک رکعت ساتھ ملا کر وتر پڑھ لیتے تھے، ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں آپ سے یہ نہیں پوچھ رہا، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تو موٹی عقل والا ہے مجھے تو نے اتنا وقت بھی نہ دیا کہ میں تجھ سے پوری حدیث پڑھ کر سناتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور ایک رکعت ساتھ ملا کر وتر پڑھ لیتے اور دو رکعات صبح کی نماز سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے وقت میں پڑھتے گویا کہ اذان کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں میں ہی ہوتی، خلف نے أَرَأَيْتَ الرَّکْعَتَيْنِ کہا اور اس میں صلوۃ کا ذکر نہیں-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment