Saturday, 14 May 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:845


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نماز  کا بیان
باب
 مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت و قدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حدیث نمبر
845
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ و حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا بَکْرٍ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ فِي وَجَعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ الِاثْنَيْنِ وَهُمْ صُفُوفٌ فِي الصَّلَاةِ کَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرَ الْحُجْرَةِ فَنَظَرَ إِلَيْنَا وَهُوَ قَائِمٌ کَأَنَّ وَجْهَهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ ثُمَّ تَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِکًا قَالَ فَبُهِتْنَا وَنَحْنُ فِي الصَّلَاةِ مِنْ فَرَحٍ بِخُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَکَصَ أَبُو بَکْرٍ عَلَی عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ الصَّفَّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجٌ لِلصَّلَاةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَکُمْ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْخَی السِّتْرَ قَالَ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِکَ
عمرو ناقد، حسن حلوانی، عبد بن حمید، عبد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، ابن شہاب، انس بن مالک حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وفات میں ان کو نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ سوموار کے دن جب تمام صحابہ صفوں میں نماز ادا کر رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجرہ کا پردہ ہٹایا پھر کھڑے ہو کر ہماری طرف دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ گویا کہ قرآن کے ورق کی طرح معلوم ہو رہا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور ہم لوگ نماز ہی میں بے انتہا خوش ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکلنے پر اور حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی ایڑیوں پر اس گمان سے پیچھے ہٹ کر صف میں ملنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لئے نکلنے والے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ مبارک سے اشارہ کیا کہ اپنی نماز پوری کرو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے حجرہ میں چلے گئے اور پردہ گرا دیا اور اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رحلت فرمائی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment