Saturday, 14 May 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:844


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
نماز  کا بیان
باب
 مرض یا سفر کا عذر پیش آجائے تو امام کے لئے خلیفہ بنانے کے بیان میں جو لوگوں کو نماز پڑھائے صاحب طاقت و قدرت کے لئے امام کے پیچھے قیام کے لزوم اور بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے کے پیچھے بیٹھ کر نماز ادا کرنے کے منسوخ ہونے کے بیان میں
حدیث نمبر
844
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَکْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ فَکَانَ يُصَلِّي بِهِمْ قَالَ عُرْوَةُ فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً فَخَرَجَ وَإِذَا أَبُو بَکْرٍ يَؤُمُّ النَّاسَ فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَکْرٍ اسْتَأْخَرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْ کَمَا أَنْتَ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَائَ أَبِي بَکْرٍ إِلَی جَنْبِهِ فَکَانَ أَبُو بَکْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَکْرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، ہشام ابن نمیر، ہشام، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیماری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں پس وہ ان کو نماز پڑھاتے رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی طبیعت میں جب آرام محسوس کیا تو آپ باہر تشریف لائے اس وقت لوگوں کی امامت حضرت ابوبکر فرمارہے تھے جب ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو وہیں کھڑے رہنے کا اشارہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوبکر کے پہلو میں بیٹھ گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ نمازا دا کر رہے تھے اور صحابہ ابوبکر کی نماز کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment