کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حیض کا بیان
باب
صرف منی سے غسل کے نسخ اور ختانین کے مل جانے سے غسل واجب ہونے کے بیان میں
حدیث نمبر
688
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی وَهَذَا حَدِيثُهُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ اخْتَلَفَ فِي ذَلِکَ رَهْطٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّونَ لَا يَجِبُ الْغُسْلُ إِلَّا مِنْ الدَّفْقِ أَوْ مِنْ الْمَائِ وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ بَلْ إِذَا خَالَطَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی فَأَنَا أَشْفِيکُمْ مِنْ ذَلِکَ فَقُمْتُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَی عَائِشَةَ فَأُذِنَ لِي فَقُلْتُ لَهَا يَا أُمَّاهْ أَوْ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَکِ عَنْ شَيْئٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيکِ فَقَالَتْ لَا تَسْتَحْيِي أَنْ تَسْأَلَنِي عَمَّا کُنْتَ سَائِلًا عَنْهُ أُمَّکَ الَّتِي وَلَدَتْکَ فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّکَ قُلْتُ فَمَا يُوجِبُ الْغُسْلَ قَالَتْ عَلَی الْخَبِيرِ سَقَطْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ
محمد بن مثنی، محمد بن عبداللہ انصاری، ہشام بن حسان، حمید بن ہلال، ابوبردہ، ابوموسی اشعری، عبدالاعلی، ہشام، حمید بن ہلال، حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مہاجرین وانصار کی جماعت کا اس بارے میں اختلاف ہوا انصار صحابہ نے کہا ٹپکنے یا پانی کے علاوہ غسل واجب نہیں ہوتا اور مہاجرین صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ عضوین کے ملنے سے غسل واجب ہو جاتا ہے حضرت ابوموسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں تمہاری اس معاملہ میں تسلی ابھی کروا دیتا ہوں میں کھڑا ہوا حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہو کر اجازت طلب کی مجھے اجازت دی گئی تو میں نے کہا اے میری ماں یا مومنین کی ماں میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آپ سے شرم آتی ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تو مجھ سے اس بات کے پوچھنے میں شرم نہ کر جو تو اپنی حقیقی والدہ سے پوچھنے والا ہے جس کے پیٹ سے تو پیدا ہوا ہے میں بھی تو تیری ماں ہو میں نے عرض کیا غسل کو واجب کرنے والی کیا چیز ہے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تو نے یہ مسئلہ پوری خبر رکھنے والی سے پوچھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب آدمی چار شاخوں کے درمیان بیٹھ جائے اور دونوں شرمگاہیں مل جائیں تو تحقیق غسل واجب ہوگیا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment