Saturday, 14 May 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:673


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حیض کا بیان
باب
 خلوت میں ننگے ہو کر غسل کرنے کے جواز کے بیان میں
حدیث نمبر
673
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَی سَوْأَةِ بَعْضٍ وَکَانَ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ فَقَالُوا وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَی أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ قَالَ فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَی حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ قَالَ فَجَمَحَ مُوسَی بِإِثْرِهِ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّی نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَی سَوْأَةِ مُوسَی قَالُوا وَاللَّهِ مَا بِمُوسَی مِنْ بَأْسٍ فَقَامَ الْحَجَرُ حَتَّی نُظِرَ إِلَيْهِ قَالَ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ فَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ إِنَّهُ بِالْحَجَرِ نَدَبٌ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ ضَرْبُ مُوسَی بِالْحَجَرِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بنی اسرائیل ننگے غسل کرتے اور ایک دوسرے کی شرمگاہ کو دیکھتے اور حضرت موسی اکیلے غسل کرتے تو لوگوں نے کہا کہ اللہ کی قسم موسی کو ہمارے ساتھ غسل کرنے سے روکنے والی صرف یہ چیز ہے کہ آپ کو ہرنیا کی بیماری ہے ایک مرتبہ آپ غسل کرنے گئے آپ نے اپنے کپڑے اتار کر ایک پتھر پر رکھے وہ پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھا گ کھڑا ہوا ور موسی اس کے پیچھے دوڑے اور فرماتے جاتے تھے اے پتھر میرے کپڑے دے میرے کپڑے دے یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسی کی شرمگاہ کو دیکھ لیا اور انہوں نے کہا اللہ کی قسم موسی علیہ السلام کو تو کوئی بیماری نہیں پتھر کھڑا ہوگیا موسی علیہ السلام نے اس کو دیکھا اپنے کپڑے لئے اور پتھر کو مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں اللہ کی قسم اس پتھر پر موسی علیہ السلام کی ضرب سے چھ یا سات نشانات موجود تھے-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment