Friday, 13 May 2011

Sahi Muslim, Jild 1, Hadith no:654


کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حیض کا بیان
باب
 حیض کا غسل کرنے والی عورت کے لئے مشک لگا کر روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنے کے استحباب کے بیان میں
حدیث نمبر
654
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ أَسْمَائَ سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ فَقَالَ تَأْخُذُ إِحْدَاکُنَّ مَائَهَا وَسِدْرَتَهَا فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِهَا فَتَدْلُکُهُ دَلْکًا شَدِيدًا حَتَّی تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَائَ ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّکَةً فَتَطَهَّرُ بِهَا فَقَالَتْ أَسْمَائُ وَکَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَطَهَّرِينَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ کَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِکَ تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ فَقَالَ تَأْخُذُ مَائً فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ ثُمَّ تَصُبُّ عَلَی رَأْسِهَا فَتَدْلُکُهُ حَتَّی تَبْلُغَ شُؤُونَ رَأْسِهَا ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَائَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ نِعْمَ النِّسَائُ نِسَائُ الْأَنْصَارِ لَمْ يَکُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَائُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابراہیم بن مہاجر، صفیہ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت اسماء نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیض کے بعد غسل کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پا نی کو بیری کے پتوں کے ساتھ ملا کر اچھی طرح پاکی حاصل کر پھر اپنے سر پر پانی ڈال اور خوب مل مل کر دھو یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اپنے اوپر پانی ڈال پھر خوشبو لگا ہوا کپڑے کا ٹکڑا لے اور اس سے پاکی حاصل کر، اسماء نے کہا میں اس سے کیسے پاکی حاصل کروں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا  سُبْحَانَ اللَّهِ اس سے پاکی حاصل کر، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے چپکے سے کہا کہ اس کپڑے کے ساتھ خون کا اثر ختم کر دو پھر حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پانی لے کر خوب اچھی طرح طہارت حاصل کر پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو مل لو یہاں تک کہ پانی بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے پھر اپنے جسم پر پانی ڈالو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا انصاری عورتیں کیا خوب تھیں کہ ان کو حیا دین کے سمجھنے سے نہیں روکتی تھی-



contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.

No comments:

Post a Comment