کتاب حدیث
مسلم شریف
کتاب
حیض کا بیان
باب
حائضہ عورت کا اپنے خاوند کے سر کو دھونے اور اس میں کنگھی کرنے کے جواز اور اس کے جھوٹے کے پاک ہونے اور اس کی گود میں تکیہ لگانے اور اس میں قرا ءت قرآن کے بیان میں
حدیث نمبر
598
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الْيَهُودَ کَانُوا إِذَا حَاضَتْ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاکِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِي الْمَحِيضِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْنَعُوا کُلَّ شَيْئٍ إِلَّا النِّکَاحَ فَبَلَغَ ذَلِکَ الْيَهُودَ فَقَالُوا مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَائَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ کَذَا وَکَذَا فَلَا نُجَامِعُهُنَّ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَعَرَفَا أَنْ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، حماد، بن سلمہ، ثابت، انس سے روایت ہے کہ یہود میں سے جب کسی عورت کو حیض آتا تو وہ اس کو نہ تو اپنے ساتھ کھلاتے اور نہ ان کو گھروں میں اپنے ساتھ رکھتے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا (وَيَسْأَلُونَکَ عَنْ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَائَ فِي الْمَحِيضِ)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما دیں کہ وہ گندگی ہے پس جدا رہو عورتوں سے حیض میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جماع کے علاوہ ہر کام کرو یہود کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ یہ آدمی (نبی ) کا کیا ارادہ ہے ہمارا کوئی کام نہیں چھوڑتا جس میں ہماری مخالفت نہ کرتا ہو، یہ سن کر حضرت اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول یہودی اس اس طرح کہتے ہیں کیا ہم عورتوں سے جماع ہی نہ کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور متغیر ہوگیا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان دونوں پر غصہ آیا ہے وہ دونوں اٹھ کر باہر نکل گئے اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف دودھ کا ہدیہ ان دونوں کے ہاں سے آیا تو اپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور ان کو دودھ پلایا تو ہم نے معلوم کیا کہ آپ کو ان پر غصہ نہ تھا-
contributed by MUHAMMAD TAHIR RASHID.
No comments:
Post a Comment